سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ
نوکری کی وجہ سے شہرکے ایک ہوٹل میں میرا قیام ہے جو آفس سے قریب ہے اور مسجدآفس
اورہوٹل سے دور ہےکہ اذان کی آواز سنائی نہیں دیتی،مجھےہوٹل میں فجر اورعشاء کی
نمازیں اورآفس میں ظہر، عصر اورمغرب کی نمازیں پڑھنےکامعمول ہے،اِن سب نمازوں کےلئے
اذان اور اقامت کہناضروری ہےیانہیں؟
الجواب وباللہ التوفیق :
صورتِ مسئولہ میں ہوٹل اور آفس
دونوں جگہوں میں تنہا پڑھی جانےوالی نمازوں
کےلئے بھی اذان و اقامت کہناافضل ہے؛صرف اقامت پر اکتفاء کرنا بھی درست ہے،تاہم اگر مسجدزیادہ دُورنہ ہو تو ہرنمازمسجدمیں باجماعت اداکرنے کی پوری کوشش کریں۔ (مستفاد:
فتاوی محمودیہ:۵؍۳۹۵،فاروقیہ )
وان كان في كرم او ضيعۃ يكتفى باذان القريۃ او البلدۃ ان كان قريبا والا فلا وحد القرب ان يبلغ الاذان اليه منهما.(رد المحتار:۱؍۳۹۵،دار الفكر بیروت)
وأما المنفرد فالافضل له ان ياتي بهما ليكون اداؤه على هيئة الجماعة.(حلبي كبير :۲؍۲۶۳ ط، مكتبة دارالعلوم ديوبند)

