قبرستان کی طرف رخ کرکے دعا مانگنا

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ

ہمارے علاقے میں عموما قبرستان مسجدوں کےاحاطےہی میں رہتے ہیں،کیاایسی صورت حال میں بھی دعا مانگتے وقت قبلہ رو ہو کر ہی دعا مانگنا ضروری ہے یا جس  طرف بھی  ہوں اُسی طرف رخ کرکےدعا مانگ سکتے ہیں؟ جبکہ  ہمارے دل میں صرف اللہ سے ہی مانگنا مقصود ہے نہ کہ اہلِ قبور سے، جواب عنایت فرمائیں۔

الجواب وباللہ التوفیق :

 اگر سوال قبرستان  میں قبرکے سامنے کھڑے ہوکردعا کرنے سے متعلق ہےتواس  سلسلے میں بہتر یہی ہے کہ ہاتھ نہ اٹھائے جائیں،کیونکہ دیکھنے والوں کو شبہ ہوگا کہ شاید یہ قبر والے سے کچھ مانگ رہا ہے،لہذا قبلہ رخ ہو کر دعا کریں اس طور پرکہ چہرہ قبلہ کی طرف اورپیٹھ قبر کی جانب ہو ۔(مستفاد:فتاویٰ محمودیہ :۹؍۱۴۴، ڈابھیل ،فتاویٰ رحیمیہ :۳؍۵۵۰،مکتبۃ الاحسان دیوبند)

فإذا بلغ المقبرة يخلع نعليه ثم يقف مستدبر القبلة مستقبلا لوجه الميت ويقول السلام عليكم يا أهل القبور .......وإذا أراد الدعاء يقوم مستقبل القبلة كذا في خزانة الروایات.(الفتاوی الہندیۃ:الباب السادس عشر في زيارة القبور :۵؍۴۰۴ ،المکتبۃ الاشرفیۃ )

 اوراگر سوال کا تعلق مسجد میں رہ کردعا مانگنے سے ہےتودعاہررخ میں جائز ہے ،البتہ قبلہ روہو کر دعا مانگنا مستحب ہے، جیساکہ  آپﷺبھی اس بات کا خیال رکھتے تھے۔

فَأَيْنَما تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللہِ . (البقرۃ :۱۱۵)

آداب الدعاء....أن يدعومستقبل القبلة ويرفع يديه بحيث يرى بياض إبطيه. روى جابر بن عبد اللہ أن رسول اللہ ﷺ أتى الموقف بعرفة واستقبل القبلة ولم يزل يدعو حتى غربت الشمس.  (الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ:۲۰؍۲۶۲ ،ادارۃ القاہرۃ )