عقیقہ کے وقت چاندی صدقہ نہ کرنا

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ

 بچہ کی پیدائش کےساتویں  دن  اس کےسرکےبال  مونڈکراس کے وزن کے برابرچاندی صدقہ کرناچاہئے، اگرکوئی شخص بچہ کمزورہونے کی وجہ سےسرکے بال نہ منڈوائے  یا  چاندی صدقہ نہ کرےتو اس صورت میں کیاکرناچاہئے؟ رہنمائی فرمائیں کرم ہوگا۔

الجواب وباللہ التوفیق :

 عقیقہ یعنی بچہ پیدا ہونے کی خوشی میں شکر کےطورپرنیز مصیبتوں اوربیماریوں سے حفاظت  کے لئے  ساتویں دن لڑکے کےلئے دوبکرے  اورلڑکی کے لئے ایک بکرا ذبح کرنا  اور بچہ کے سرکےبال مونڈکرسرپر زعفران مَل دینا اور بال کےوزن کے برابر چاندی غریبوں میں صدقہ کرنا مستحب ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں اگرعقیقہ کےموقع پرسرمنڈواکر چاندی صدقہ نہ کیا  ہو  یا سر کے بال مونڈا نہ گیا ہوتواب   بھی پیدائشی بالوں  کےوزن کا اندازہ لگا کر چاندی یا اُس  کی قیمت  صدقہ کرسکتے  ہیں۔     

حدثنا سلمان بن عامر الضبي قال:سمعت رسول اللہﷺيقول:مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَةٌ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى.     (صحیح البخاری ،رقم:۵۱۵۴،دار ابن كثير)

عن سمرة قال: قال رَسولُ اللہﷺ: الغُلامُ مُرْتَهنٌ بِعَقِيقتهِ يُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ السَّابعِ ويُسَمَّى وَيُحْلقُ رَأْسُه. (سنن الترمذي، رقم :۱۶۰۰،دارالرسالۃ )

عن علي بن أبي طالب قال: عَقَّ رَسولُ اللہِ ﷺعن الحَسنِ بشَاةٍ وقال: يا فَاطِمةُ احْلِقِيْ رَأْسَهُ وَتَصدَّقِي بِزِنَةِ شَعْرهِ فِضَّةً فوَزَنَّاهُ فكَانَ وَزْنُه دِرْهمًا أوْ بَعْضَ دِرْهَمٍ. (سنن الترمذي، رقم :۱۵۹۷،دارالرسالۃ )

(مستفاد : فتاویٰ رحیمیہ :۵؍۴۲۸وفتاوی قاسمیہ :۲۲؍۵۲۲، دیوبند)