سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ
(الف) میرا ایک آم کا باغ ہے،اس پر پھول لگنے سے پہلےپتوں کی حالت میں کیامیں اس کوخریدارکوبیچ سکتا ہوں،جبکہ پھول لگنے سے یہ معلوم ہو جائے گا کہ آم کتنےنکلیں گے،ہمارے علاقے میں اکثر اسی طرح آم کاسودا ہوتا ہے؟
(ب) دوسری شکل یہ کہ دو تین سال کے
لئے باغ کو خریدلیا جاتاہے،مثلاً تین سال کے لئے دو لاکھ روپے میں باغ کو خرید لیا ؛تین
سال تک پیداہونے والاسارا پھل خریدنے والے کا ہوگا، کیایہ شکل جائز ہے اور اس طرح کی
بیع کے آم جو بازار میں آتے ہیں کیا اس کو خرید کر کھانا درست ہے؛ جبکہ بازار میں اکثرایسے
ہی آم ملتے ہیں ، رہنمائی فرمائیں۔
الجواب وباللہ التوفیق :
(الف)آم کے وجود میں آنے سے پہلے آموں کی خریدوفروخت جائز نہیں ہے، کیوں کہ یہ معدوم(
جو چیز موجود نہیں ) کی خریدوفروخت ہے، اور معدوم کی خریدوفروخت باطل ہے۔
(ب) اور باغ کو دو تین سال کے لیے خریدنا بھی جائز نہیں ہے ، وہ بھی در اصل معدوم
کی خرید و فروخت ہے اور جب تک یقینی طور پر معلوم نہ ہو کہ اس آم کی خرید وفروخت باطل طور پر ہوئی ہے؛ اُسےخریدکرکھانا جائزہے اور اگریقینی طورپرمعلوم ہوجائے تو اسےخریدنا اور کھانا ناجائز ہے ۔
(ومن باع ثمرةً بارزةً) أما قبل الظهور فلايصح
اتفاقًا.(ظهر صلاحها أولا،صح) في الأصح. (حاشية ابن عابدين،مطلب في بيع الثمر:۲۰۳ ،فرفور)
بيع الثمار قبل الظهور لايصح اتفاقاً. (الفتاوىٰ الهندية ،فصل في بيع الثمار :۳؍۱۰۷، المكتبة الاشرفية ،ديوبند)
(مستفاد:فتاویٰ دار العلوم دیوبند:۱۴؍۳۵۱)

