سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ
ڈاڑھی پر لال رنگ
کی طرح کوئی چیزملاکراستعمال کرسکتےہیں،جیسے مہندی میں
کافی کی طرح کوئی پاوڈرملا نےسے کالارنگ
بنتاہےکیااس کا استعمال درست ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق :
ایساخضاب جس سے بال بالکل کالے معلوم
ہوں اور جوانی کاشبہ ہونےلگے شرعاًممنوع اورمکروہ ہے، حدیث میں اس پرسخت وعیدآئی ہے،
”آپ ﷺ نے فرمایاکہ
آخرزمانےمیں کچھ لوگ سیاہ خضاب لگائیں گے جیسےکبوترکاسینہ؛اُن لوگوں کوجنت کی
خوشبوبھی نصیب نہ ہوگی۔‘‘
فتحِ مکہ کےموقع پرحضرت ابوبکر صدیق ؓکےوالدابوقحافہ
آپﷺ کی خدمت میں اِس حال میں لائےگئےکہ اُن
کےسراورڈاڑھی کے بال سفید تھے،آپﷺ فرمایاکہ ”ان کے سفید بالوں کو کسی
چیز سے تبدیل کردو ، البتہ کالے رنگ سے اجتناب کرنا۔“
لہذاایساخضاب ناجائزہےجس سے بال بالکل
کالےمعلوم ہوں،ہاں سیاہ رنگ کے علاوہ کسی دوسرے رنگ (مثلاً سرخ یابراؤن
وغیرہ رنگ)کاخضاب لگانادرست ہے۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہ ﷺ:
يَكُونُ قَوْمٌ يَخْضِبُونَ فِي آخِرِ الزَّمَانِ بِالسَّوَادِ كَحَوَاصِلِ
الْحَمَامِ لَا يَرِيْحُونَ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ. (سنن ابي داؤد ، رقم الحديث :۴۲۱۲)
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: أُتِيَ بِأَبِي قُحَافَةَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَرَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ كَالثَّغَامَةِ بَيَاضًا فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: غَيِّرُوا هَذَا بِشَيْءٍ وَاجْتَنِبُوا السَّوَادَ .(صحيح مسلم ، رقم الحديث :۲۱۰۲)(مستفاد:فتاوی رحیمیہ :۵؍۴۸۷،فتاوی دارالعلوم زکریا:۷؍۴۱۶)

