اذان کےبعدہاتھ اٹھاکر دعا کرنا

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ

 (الف)کیا ہاتھ اٹھا کراذان کی دعامانگ سکتے ہیں۔(ب) دورانِ اذان دینی اور دنیوی کاموں  میں سے کونسے کام کرسکتے  ہیں اور کونسے کام نہیں۔(ج) کیا لیٹے ہوئےاذان سُن سکتے ہیں ؟

الجواب وباللہ التوفیق :

(الف) کتبِ  فقہ وحدیث میں اذان  کے بعد صرف زبانی دعاپڑھنا ثابت ہے،ہاتھ اُٹھاکر دعا  کرنا  ثابت نہیں،اس لئے ہاتھ  اُٹھائے بغیر دعاپڑھی جائے۔

 (ب) اذان شروع ہوتو اس کا احترام کیا جائےاورتمام کام کاج چھوڑکر اذان  سنی جائے اور اُس کا جواب دیا جائے،البتہ اگر کوئی شخص اذان کے دوران کسی سخت ضرورت سے بات چیت کرےتوکوئی حرج نہیں،ہاں بےضرورت بات چیت کرناخلافِ سنت ہے،جہاں تک دینی اُمورکامعاملہ  ہے،اگر انفرادی عبادت ہو مثلاً قرآنِ پاک کی تلاوت،ذکر واذکار وغیرہ تواس کو روك كر جواب دينا چاہئے،اوراگراجتماعی دینی کام ہو؛مثلاًتعلیم وتعلم  یا دینی مجلس چل رہی ہو تو  فقہاءِ کرام نے دورانِ اذان؛اُن کو جاری رکھنے کی اجازت  دی ہے ۔

(ج) ہاں پورےادب کےساتھ لیٹے ہوئےاذان سننےاوراُس کاجواب دینےکی شرعاً اجازت ہے۔

والمسنون في هذا الدعاء ألا ترفع الأيدي لأنه لم يثبت عن النبي ﷺ رفعها.(فیض الباری :۲؍۲۱۴)

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: أَنّ رَسُولَ اللہﷺ قَالَ: إِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَاءَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ.(صحيح البخاري :۵۸۶)

ولا ينبغي أن يتكلم السامع في حال الأذان والإقامة ولا يشتغل بقراءة القرآن ولا بشيء من الأعمال سوى الإجابة ولو كان في القراءة ينبغي أن يقطع ويشتغل بالاستماع والإجابة.(بدائع الصنائع: ۱؍۱۵۵)

وفي المجتبى في ثمانية مواضع إذا سمع الأذان لا يجيب ؛في الصلاة واستماع خطبة الجمعة وثلاث خطب الموسم والجنازة وفي تعلم العلم وتعليمه والجماع والمستراح وقضاء الحاجة  والتغوط. (البحرالرائق :۱؍۴۵۲)             (مستفاد:فتاوی دارالعلوم زکریا: ۲؍۱۰۸، ۱۰۹، فتاوی قاسمیہ :۹؍۴۵۷،۴۵۸)