سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ
ایک وبائی مرض”ماتا“جس کو انگریزی میںChicken Poxاور میڈیکل سائنس میں Chickenpox is a highly contagious viral infection کہا جاتا ہے،جو ٥؍٦ دن کے وقفے کےعلاج سے مریض صحت
یاب ہو جاتا ہے؛ مگر اکثر لوگ اس کو بیماری
نہیں؛بلکہ اس کو اثرات کہتے ہیں ، اور اس کے علاج کے لئے
جو تدبیر اختیار کیا جاتا ہے بظاہر وہ شریعت کے خلاف ہے ، جیسا کہ نیم کے پتوں کا
استعمال کرنا( علاج کی نیت سے نہیں بلکہ کسی اور غرض سے) ہلدی کے پانی سے اتار کرنا، گھر کے باہر کے
دروازے پر نیم کے پتوں لٹکا ئے رکھنا ، اور بعض احباب تو حد سے گزر کر مندروں کا
چکر لگاتے ہیں ، وغیرہ وغیرہ؛ لہٰذاآپ سے عاجزانہ درخواست ہے،شریعت کی روشنی میں
ماتا (chicken pox) کی حقیقت اور اس کے علاج کے لئے جوطریقہ
کار استعمال کیا جا رہا ہے کیا وہ درست ہے ؟ شریعت کی روشنی میں علاج کی ترتیب
،عمل، وظیفہ و اذکار سے رہبری فرمائیں تو بڑی مہربانی ہوگی ،مدلل جواب عنایت فرمائیں
۔
الجواب وباللہ التوفیق :
سوال میں جس عقیدے کے
تحت بطورعلاج جن تدبیروں کاذکر کیا گیا ہےوہ ناجائزاورممنوع ہیں،یہ اہل اسلام کا عقیدہ نہیں ؛اس
طرح کی خلافِ شریعت چیزوں سے ہر مسلمان کو بچنا لازم و ضروری ہے۔ (مستفادفتاویٰ
محمودیہ :۱؍۲۴۲، ۲۴۳ ڈابھیل )
رہا فائدہ
ہوجانا اُس کےحق ہونے کی دلیل نہیں، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓکی اہلیہ محترمہ کا
واقعہ ہےکہ ان کی آنکھ میں تکلیف ہو جایا کرتی تھی وہ یہودی کے پاس جا کر دم کروالیتی
تھی وہ یہودی جیسے ہی پڑھ کر دم کرتا آنکھ میں سکون ہو جاتا،حضرت عبداللہ بن مسعود
ؓکے سامنے اس کا تذکرہ ہوا تو آپؓ نے فرمایا کہ وہ شیطان کا عمل تھا شیطان اپنے
ہاتھ سےآنکھ کو کُریدکرتا، جب یہ یہودی منتر پڑھتا توشیطان رک جاتا،یہ شیطان اور منترپڑھنے
والے کی ملی بھگت تھی،سفلی عمل میں ایسا ہی ہوتا ہے حضرت عبداللہ بن مسعودؓنےفرمایا
تمہارے لئے وہ عمل کافی ہے ، جو آنحضرتﷺفرمایاکرتے تھے، وہ کلمات یہ ہیں : أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ
إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا. (اے لوگوں کے پروردگار! بیماری
دور کر شفا بخش، شفا دینے والا تو ہی ہے ،تیرا شفا بخشناہی شفا ہے ،ایسی شفا دے کہ
بیماری کا نام و نشان نہ رہے۔)
واللہ لقد كانت عيني تقذف وكنت أختلف إلى فلان اليهودي
يرقيني، فإذا رقاني سكنت، فقال عبد اللہ: إنما ذاك عمل الشيطان كان ينخسها بيده،
فإذا رقاها كف عنها، إنما كان يكفيك أن تقولي كما كان رسول اللہ ﷺ يقول: أذهب البأس رب الناس،
اشف أنت الشافي، لا شفاء إلا شفاؤك، شفاء لا يغادر سقما.(سنن ابوداؤد ،رقم الحدیث: ۳۸۸۳) (مستفاد:فتاوی ٰ
رحیمیہ :۱؍۱۲۹)

