عصر اور مغرب کے بعد سونا

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ

 عصر اور مغرب کے بعد سونا جائز ہے یانہیں ؟

الجواب وباللہ التوفیق :

 عصراورمغرب کےبعدبےضرورت سوناشریعت کی نظر میں ناپسندیدہ ہے،اگرکسی مجبوری کی وجہ سے سوئے اور نماز کےلئے بیدار ہونے  پروہ خود قادرہویاکسی شخص کو بیدار کرنے پر تیارکردے تو عصر اورمغرب  کےبعدسونےکی اجازت ہے،ورنہ  ایسےوقت  سونا شرعاً ممنوع   اورمکروہ ہے۔

عن أبي بَرْزَةَ قال:كان النبيُّ ﷺ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَ العِشَاءِ والحَدِيثَ بَعْدَهَا. قال الترمذي :حديثُ أبي بَرْزَةَ حديثٌ حسنٌ صحيحٌ.(سنن الترمذي :۱۶۸)

وقال الطحاوي: إنما كره النوم قبلها لمن خشي عليه فوت وقتها أو فوت الجماعة فيهاوأما من وكل نفسه إلى من يوقظه فيباح له النوم. (ردالمحتار :۱؍۳۶۸)  (مستفاد:فتاوی رشیدیہ:۷۳۲)