حضرت آدم علیہ السلام
سے لے کر اب تک، پھر جنت میں بھی بر قرار رہنے والی صرف دو عبادتیں ہیں، ایک نکاح،
دوسری ایمان۔ مشہور فقیہ صاحبِ در مختار کی اس عبارت سے نکاح کی فضیلت واہمیت کا
اندازہ لگائیں کہ نکاح کتنی بڑی عبادت ہے جو ابتداء آفرینش سے اب تک پھر جنت میں بھی
برقرار رہنے والی ہے۔ نیز ایمان اور نکاح کے درمیان ایک مضبوط اور پائیدار رشتہ
قائم ہے۔ حضورِ اقدس ﷺ نے بارہا نکاح کی ترغیب و تاکید فرمائی، فضائل و فوائد بیان
فرمائے۔ چنانچہ ایک مرتبہ ارشاد فرمایا کہ يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ
اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَ
اَحْصَنُ لِلْفَرْجِ (بخاری:۵۰۶۵، مسلم:۱۴۰۰) ” اے
نوجوانو! تم میں سے جو نکاح کی استطاعت وطاقت رکھے وہ ضرور نکاح کرے کیونکہ اس سے
نگاہ اور شرمگاہ کی بڑی زبر دست حفاظت ہوتی ہے“۔
ایک اور حدیث میں ارشاد فرمایا اِذَاتَزَوَّجَ الْعَبْدُ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ نِصْفَ الدِّيْنِ فَلْيَتَّقِ اللہَ فِي النِصْفِ الْبَاقی. (المعجم الاوسط:۸۷۹۴، شعب الایمان: ۵۴۸۶) نکاح سے آدھے دین کی تکمیل ہوتی ہے، باقی آدھے دین میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہئے ۔ افسوس صد افسوس ہے موجودہ معاشرہ پر کہ آج نکاح جیسی عظیم الشان عبادت کو عادت میں تبدیل کر دیا گیا ہے، اور خالص دینی عمل کو نفسانی خواہشات کی تکمیل کا ایک کھلونا بنا دیا گیا ہے، نیز بے شمار غیر شرعی رسومات کی وجہ سے پھر وہی دورِ جاہلیت کا نقشہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہے، جس کی وجہ سے لڑکی کی پیدائش و پرورش ایک سنگین مسئلہ ہے، موجودہ نکاحوں کو دیکھ کر یہ تاثر اور تبصرہ بالکل بجا ہے کہ آج نکاح بہت مشکل اور زناو بدکاری بہت آسان ہے۔ امت مسلمہ خصوصاًملت کے درد مندوں کے لئے یہ صورتِ حال ایک زبر دست لمحہ فکر یہ ہے کہ رب ذوالجلال کی کوئی عبادت ادا ہو رہی ہے یا کسی کا خون چوسا جارہا ہے؟ اللہ اور رسول کی اطاعت ہورہی ہے یانا فرمانی؟ نیک وپاکیزہ معاشرہ کی تشکیل ہے یا ظلم و ستم کا سیلاب اور گناہوں کی بہتات؟
الغرض خود سرکارِ دو عالم ﷺنے اپنے ایک ارشاد میں
بالکل واضح اور صاف لفظوں میں اس کا خدشہ ظاہر فرمایا ہے کہ اِذَا خَطَبَ
اِلَيْكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ وَخُلْقَهُ فَزَوِّجُوْهُ إِنْ لَا
تَفْعَلُوْاتَكُنْ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادُ عَرِيض. (ترندی:
۱۰۸۴) یعنی جب تمہارے پاس ایسے لوگ پیغام بھیجیں جن کی
دینداری و اخلاق تم کو پسند ہے تو اُن سے نکاح کر دو، اگر ایسا نہیں کرو گے تو زمین
میں فتنہ و فساد کا طوفان برپا ہو جائے گا“۔
محد ثینِ کرام اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ اگر دینداری
و اخلاق سے صرفِ نظر کر کے دنیوی مال و متاع، دولت و جائیداد اور حسن و خوبصورتی
کو معیار بنالیا جائے اور یہی چیزیں مدارِ نکاح بن جائیں تو نیک و حلال راستہ بند
ہو جائے گا اور غلط و ناجائز اور حرام راستے کھل جائیں گے۔ ائمہ حدیث صراحت کے
ساتھ یہ بات بھی لکھتے ہیں کہ نکاح دشوار و مشکل اور زناو بد کاری بہت آسان ہو
جائے گی، وجہ یہی ہے کہ بے جا اسراف و فضول خرچی کی بناء پر بہت سے مرد اور بہت سی
عورتیں بغیر شادی کے باقی رہ جائیں گی تو زنا کے واقعات شروع ہوجائیں گے اور ایک
فتنہ کھڑا ہو جائے گا۔ اسلام ایک ہمہ گیر مذہب ہے، اس کی تعلیمات نہایت جامع ،
شاندار اور بے حد پاکیزہ ہیں، اسلام نے نکاح کو جائز بلکہ عبادت عظیم قرار دے کر ایک
نیک و پاکیزہ معاشرہ تشکیل دیا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ دور نبوت سے لے کر تبع ِتابعین
بلکہ ایک طویل مدت تک لوگ نکاح کی برکتوں سے مالا مال تھے۔ ہر طرف سکون و چین،
راحت و آرام اور امن وامان کا دور دورہ تھا۔ خاندان و قبائل کی کثرت سے مسلمانوں
کا اجتماعی نظام بہت پائیدار اور مضبوط تھا۔
ہمدردی و غمخواری، محبت و
بھائی چارگی اور مودت والفت کی بے مثال زندگی تھی گویا حضورِ قدس ﷺ کے اس ارشاد إِنَّ
أَعْظَمَ النِّكَاحَ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مُؤْنَةٌ (شعب الایمان : ۶۱۴۲) یعنی " سب سے برکت نکاح وہ ہے جو سب سے کم خرچ والا
ہو کے وہ لوگ صحیح مصداق اور نمونہ تھے۔ لیکن جب سے مذکورہ حدیث شریف کے خلاف امت
مسلمہ کا عمل شروع ہوا ہے، نکاح میں اسراف و فضول خرچی کا بازار گرم ہوا ہے، اور
فرضی برتری و موہوم عزت کے لئے ایک دوسرے پر سبقت دو مقابلہ تیزی سے جاری ہے۔ اس
وقت سے اضطراب و بےچینی، حسدودشمنی، شکوہ شکایت اور بدامنی و بے بر کتی بلکہ نحوست
کا ایک طویل سلسلہ چل پڑا ہے۔ آج نکاح کے نام پر دُلھا کی فروخت ہوتی ہے ، اور جو
عورت سب سے زیادہ مال و دولت رکھتی ہے وہی خریدار بنتی ہے۔ جوں ہی شادی کی بات طے
ہوتی ہے جہیز ، جوڑے کی رقم ، اور زیورات وغیرہ کی بڑی فہرست تیار ہو جاتی ہے، لڑکی
والوں سے بے شمارمطالبات رکھے جاتے ہیں۔
دلہن
کے والدین، سر پرست اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے مجبور اراضی ہو جاتے ہیں پھر وہ
صورتِ حال سامنے آتی ہے، جس کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، مثلاً قرضوں کا
بوجھ خصوصاً سودی قرضے ، در در کی ٹھوکریں، جائیداد یا گھر فروخت کر کے ہمیشہ بے
گھر ہو جانا، دوستوں اور اقرباء کے طعنے ، اور قرض خواہوں کا دباؤ وغیرہ۔ الغرض بے
شمار غیر شرعی رسومات و مروّ جات کے تلے دب کر آج نکاح مشکل سے مشکل تر اور ز ناو
بدکاری کے دروازے کھلتے جارہے ہیں۔ بنے بنائے گھر اُجڑتے و بر باد ہوتے ہوئے دیکھ
کر کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے اور خون کے آنسو رونے کی کمی ہے۔ تمام مسلمانوں پر
لازم و ضروری ہے کہ غیر شرعی رسومات و مروَّجات سے نکاح کو پاک وصاف رکھیں اور
حضور اقدسﷺ کی تعلیمات و ہدایات کے مطابق نکاح پوری سادگی کے ساتھ انجام دیں، پھر
نکاح کی برکتوں سے پورا معاشرہ لطف اندوز ہو گا۔


حضرت مولانا مفتی محمد صلاح الدین صاحب قاسمی مدظلہ